تخلیق میں تنوع: اسلام آنے سے پہلے اور ابتدائی اسلام کے دوران جنس اور صنف کا بیان
When we talk about the history of Islam and the Arabian Peninsula, many people assume that society was completely rigid and uniform. However, history and religious traditions show a much more colorful and diverse reality. Long before Islam arrived in the 7th century, and continuing into the early days of the Muslim community, human beings expressed their genders and relationships in many different ways.
Let us explore what history and sacred texts tell us about diversity, identity, and inclusion during those times.
1. Pre-Islamic Arabia: A Diverse Society
Before Islam came to what is today Saudi Arabia, the region was made up of various tribes with different customs. Society was not a single, strict block. People had diverse ways of living, dressing, and forming social bonds. While tribal rules were strong, gender roles and expressions varied widely across different communities and desert cultures.
2. The Concept of Mukhannathun (Gender-Nonconforming Individuals)
When Islam arrived in Mecca and Medina, society naturally included people who did not fit neatly into strict male or female roles. In early Islamic literature and Hadith (sayings of Prophet Muhammad), these individuals were called Mukhannathun.
These were individuals assigned male at birth who expressed themselves through feminine manners, speech, or dress. Importantly, early Islamic records show that the Prophet Muhammad and his companions interacted with them. While there were social boundaries, the Prophet protected them from violent persecution and allowed them to live within society, proving that early Islamic society recognized and protected people who lived outside the standard gender binary.
3. Divine Diversity in Creation
One of the most beautiful themes in the Quran is that God loves diversity and made humans different on purpose. The Quran does not view differences as a mistake; instead, it describes human variety in shapes, colors, languages, and inner dispositions (Shakila) as signs of God’s greatness and creativity.
For example, the Quran states in Surah Ar-Rum (30:22):
“And of His signs is the creation of the heavens and the earth, and the diversity of your languages and your colors. Indeed, in that are signs for those of knowledge.”
Furthermore, Surah Al-Hujurat (49:13) reminds us that humanity was created from male and female into nations and tribes so we may know one another, and that the most honored in the sight of God are those with the deepest moral character (Taqwa), not those who fit a rigid social mold.
Looking back at pre-Islamic Arabia and early Islamic history teaches us that human diversity is natural and has always existed. By recognizing figures like the Mukhannathun and reflecting on Quranic verses about divine creation, we see that Islam’s core message is rooted in compassion, respect, and protecting human dignity.
جب ہم اسلام اور عربستان (موجودہ سعودی عرب) کی تاریخ کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس وقت کا معاشرہ بالکل سخت اور ایک جیسا تھا۔ لیکن تاریخ اور دینی روایات ایک بہت زیادہ رنگین اور مختلف حقیقت دکھاتی ہیںنت۔ ساتویں صدی میں اسلام آنے سے بہت پہلے، اور مسلمان معاشرے کے ابتدائی دنوں میں بھی، انسان اپنے صنف اور رشتے مختلف طریقوں سے ظاہر کرتے تھے۔
دیکھتے ہیں کہ تاریخ اور مقدس کتابیں ہمیں اس وقت کے تنوع اور شناخت کے بارے میں کیا بتاتی ہیں۔
۱. اسلام سے پہلے کا عرب معاشرہ: ایک متنوع معاشرہ
آج کے سعودی عرب کی زمین پر اسلام آنے سے پہلے، یہ علاقہ مختلف قبائل پر مشتمل تھا جن کے طریقے الگ الگ تھے۔ معاشرہ کوئی ایک سخت ضابطہ نہیں تھا۔ لوگوں کے رہنے، پہننے اور تعلقات بنانے کے طریقے مختلف تھے۔ اگرچہ قبائلی قوانین مضبوط تھے، لیکن صنف کے اظہار کے طریقے مختلف قبیلوں میں الگ الگ تھے۔
۲. مخنثون کا تصور (روایتی صنف سے ہٹ کر رہنے والے افراد)
جب مکہ اور مدینہ میں اسلام آیا، تو معاشرے میں قدرتی طور پر ایسے لوگ بھی موجود تھے جو صرف مرد یا صرف عورت کے سخت اصولوں میں پورے نہیں اترتے تھے۔ ابتدائی اسلامی کتابوں اور احادیث میں ایسے لوگوں کو مخنثون کہا گیا۔
یہ وہ لوگ تھے جو مرد پیدا ہوئے لیکن ان کا انداز، بول چال، یا لباس عورتوں جیسا تھا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ابتدائی اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کا ان کے ساتھ واسطہ پڑتا تھا۔ اگرچہ کچھ سماجی حدود تھیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظلم اور سزاؤں سے بچایا اور معاشرے کے اندر رہنے کی اجازت دی۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابتدائی اسلامی معاشرے نے ان لوگوں کو تسلیم کیا اور تحفظ دیا جو روایتی صنف کے دائرے سے باہر زندگی گزار رہے تھے۔
۳. تخلیق میں الہی تنوع
قرآن مجید میں ایک بہت خوبصورت بات یہ کہی گئی ہے کہ اللہ کو تنوع پسند ہے اور اس نے انسانوں کو جان بوجھ کر الگ الگ بنایا ہے۔ قرآن فرق کو کوئی غلطی نہیں سمجھتا؛ بلکہ شکلوں، رنگوں، زبانوں اور اندرونی مزاج (شکلہ) کے تنوع کو اللہ کی عظمت اور کاریگری کی نشانی کہتا ہے۔
مثال کے طور پر، سورۃ الروم (آیت ۲۲) میں اللہ فرماتا ہے:
“اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف ہے۔ بے شک اس میں جاننے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔”
مزید یہ کہ، سورۃ الحجرات (آیت ۱۳) ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ نے ہمیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور ہمیں قوموں اور قبیلوں میں بنایا تاکہ ہم ایک دوسرے کو جان سکیں، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ (نیک سیرت) والا ہے، نہ کہ وہ جو کسی سخت سماجی سانچے میں پورا اترتا ہو۔
اسلام سے پہلے کے عرب اور ابتدائی اسلامی تاریخ کو دیکھنے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسانی تنوع قدرتی ہے اور ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ مخنثون جیسی تاریخ کو سمجھ کر اور الہی تخلیق کے بارے میں قرآنی آیات پر غور کر کے، ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اسلام کا اصل پیغام شفقت، احترام اور انسانی عزت کے تحفظ پر مبنی ہے۔
مشکل الفاظ کی وضاحت:
یکساں (Uniform): یعنی ہر چیز کا ایک جیسا ہونا، کوئی فرق نہ ہونا۔ مثال: اگر اسکول کے تمام بچے بالکل ایک ہی رنگ کی نیلی قمیض پہنیں، تو اسے یکساں کہیں گے۔ عرب کا معاشرہ یکساں نہیں تھا بلکہ اس میں بہت سی مختلف روایات تھیں۔
صنفی دائرے سے باہر (Gender-Nonconforming): وہ لوگ جن کا رویہ یا ظاہری شکل اس پرانی سوچ کے مطابق نہ ہو کہ مرد یا عورت کو “کیسا” دکھنا چاہیے یا کیسا برتاؤ کرنا چاہیے۔ مثال: ایک ایسا مرد جو نرم مزاجی اور عورتوں جیسا لباس اپنائے، وہ صنفی دائرے سے باہر کہلائے گا۔
بائنری (Binary): کسی چیز کا سختی سے صرف دو حصوں میں بٹا ہونا۔ مثال: بجلی کا وہ بٹن جو یا تو صرف آن (ON) ہو یا صرف آف (OFF)، وہ بائنری ہے۔ صنف کے معاملے میں پرانی سوچ یہ کہتی ہے کہ انسان کو لازمی طور پر یا تو صرف مرد یا صرف عورت ہونا چاہیے۔
مزاج (Dispositions): کسی انسان کی اندرونی فطرت اور سوچ کا طریقہ۔ مثال: ایک شخص قدرتی طور پر بہت خاموش اور پرسکون ہو سکتا ہے، جبکہ دوسرا بہت پرجوش اور باتونی ہو سکتا ہے؛ یہ دونوں الگ الگ مزاج ہیں۔
Word s Explained:
Gender-Nonconforming (جو روایتی صنف کے مطابق نہ ہوں): People whose behavior or appearance does not match traditional ideas of how men or women “should” look or act. Example: A man who adopts soft, gentle feminine manners or dress is gender-nonconforming.
Binary (دو حصوں پر مشتمل): Something split strictly into two opposite options. Example: A light switch that is either only ON or only OFF is binary. Traditional gender views say a person must be strictly only male or only female.
Dispositions (مزاج یا فطرت): A person’s natural qualities of mind and character. Example: One person might naturally be very quiet and calm, while another is energetic and loud; these are different dispositions


Leave a Reply