تحریر:
پرائیڈ پاکستان
(تعلیم و آگاہی، تقریبات)
حالیہ مہینوں میں پاکستان میں نجی تقریبات پر “فحش پارٹیوں” کا لیبل لگا کر پولیس کی کارروائیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ یہ چھاپے، جو اکثر ہم جنس افراد اور دیگر کوئیر افراد کو نشانہ بناتے ہیں، پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 292، 292-A، 294 اور ساؤنڈ سسٹم ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان قوانین کا مقصد عوامی فحاشی اور شور کی روک تھام بتایا جاتا ہے، لیکن اب یہ قوانین اقلیتی کمیونٹیز، خاص طور پر ہم جنس افراد کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔
📰 خبروں کے پیچھے کی حقیقت
لاہور وائرل پارٹی کیس (اگست 2025)
لاہور میں ایک نجی تقریب کی ویڈیوز فیشن ڈیزائنر ماریا بی کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئیں، جن میں شرکاء—جن میں سے کئی کوئیر تھے—پر “غیراخلاقی حرکات” کا الزام لگایا گیا۔ تقریباً 60 افراد کو فحاشی اور ساؤنڈ سسٹم قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا۔ بعد میں عدالت نے ناکافی شواہد اور قانونی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر کیس خارج کر دیا، لیکن نقصان ہو چکا تھا—عزتیں پامال ہوئیں، ذہنی اذیت پہنچی، اور پورے پاکستان میں ہم جنس افراد کی تقریبات کے لیے خوف کی فضا قائم ہو گئی۔
اوکاڑہ مہندی فنکشن چھاپہ (2020)
ایک شادی کی تقریب میں رقص کرنے والے کوئیر فرد کو دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے 20 افراد کے خلاف “فحاشی” اور “عوامی پریشانی” کے الزامات میں مقدمات درج کیے۔
جڑانوالہ تصادم اور ایس او پی اصلاحات (2024)
ایک ڈانس پارٹی میں خواجہ سرا افراد کی شرکت کے دوران پولیس چھاپے سے تصادم ہوا، جس میں زخمی اور گرفتاریاں ہوئیں۔ اس واقعے کے بعد پنجاب پولیس نے نئے ایس او پیز جاری کیے، جن کے تحت مرد اہلکاروں کو خواجہ سرا افراد کی تلاشی لینے سے روک دیا گیا۔
کراچی ڈی ایچ اے ہنگامہ (2019)
کراچی میں 21 خواجہ سرا افراد کو “فساد” اور “منشیات کے استعمال” کے الزامات میں گرفتار کیا گیا، جب ایک رہائشی نے “غیراخلاقی سرگرمیوں” کی شکایت کی۔ واقعہ مزید گرفتاریوں اور پولیس اسٹیشن پر ہنگامہ آرائی میں تبدیل ہو گیا۔
🕯️ وہ سچ جو زبان پر نہیں آتا: ہم جنس پرستوں کی پارٹیاں اور خاموش چھاپے
اگرچہ خواجہ سرا افراد پر چھاپے اکثر خبروں میں آتے ہیں، لیکن ہم جنس پرست مردوں اور ان کی نجی تقریبات بھی اسی طرح نشانہ بنتی ہیں, بس خاموشی سے۔ یہ تقریبات عام طور پر گھروں یا کرائے کے ہالز میں منعقد کی جاتی ہیں، لیکن “فحاشی” اور “شور” کے الزامات کے تحت ان پر بھی چھاپے مارے جاتے ہیں۔
چونکہ ہم جنس پرستی پاکستان میں شدید ممنوع ہے، اس لیے ایسے واقعات سوشل میڈیا یا خبروں میں شاذ و نادر ہی آتے ہیں۔ متاثرہ افراد شرمندگی، بے عزتی، اور قانونی تحفظ کی کمی کی وجہ سے خاموش رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پرائیڈ پاکستان کو ملک بھر سے ایسے سینکڑوں واقعات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں ہم جنس افراد کی تقریبات پر پولیس نے چھاپے مارے۔
⚖️ قانونی صورتحال: نہ تحفظ، نہ وکیل
پاکستان کا قانونی نظام ہم جنس افراد کو کوئی واضح تحفظ فراہم نہیں کرتا۔ “فحاشی” اور “غیراخلاقی حرکتوں” جیسے مبہم الفاظ کو اکثر ان افراد کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ گرفتاری کے بعد متاثرہ افراد کو:
- امتیازی سلوک سے بچاؤ کا کوئی قانونی تحفظ نہیں
- ہم جنس افراد کے لیے دوستانہ وکیل دستیاب نہیں
- پولیس حراست میں رازداری نہیں
- میڈیا میں آواز نہیں ملتی، کیونکہ زیادہ تر ادارے کوئیر گرفتاریوں کی رپورٹنگ سے گریز کرتے ہیں
💡 ہماری کمیونٹی کے لیے پیغام: احتیاط کریں اور اپنی شناخت پر فخر کریں
ہم سمجھتے ہیں کہ اپنی شناخت کو منانے اور دوسروں سے جڑنے کی خواہش فطری ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں احتیاط بزدلی نہیں، بلکہ بقا ہے۔ اگر آپ کوئی تقریب منعقد کرنے جا رہے ہیں:
✅ حفاظتی تجاویز
- تقریب کو چھوٹا اور نجی رکھیں
- اونچی آواز یا عوامی نمائش سے گریز کریں
- ویڈیوز یا تصاویر سوشل میڈیا پر نہ ڈالیں
- مہمانوں کی فہرست احتیاط سے بنائیں
- ایمرجنسی رابطے اور قانونی مدد کے نمبر تیار رکھیں
- اپنے حقوق جانیں—لیکن خطرات بھی سمجھیں
🧭 پرائیڈ پاکستان کیا کر رہا ہے؟
پرائیڈ پاکستان:
- ہم جنس افراد کے لیے دوستانہ وکلاء کا نیٹ ورک بنا رہا ہے
- قانونی اصلاحات اور امتیازی سلوک کے خلاف تحفظات کے لیے آواز بلند کر رہا ہے
- پولیس ہراسانی کا شکار افراد کے لیے ایمرجنسی سپورٹ فراہم کر رہا ہے
- کہانیوں اور رپورٹس کے ذریعے آگاہی پیدا کر رہا ہے
اگر آپ یا آپ کے جاننے والے ایسے کسی واقعے کا شکار ہوئے ہیں، تو ہم سے رازداری کے ساتھ رابطہ کریں یا یہ فارم پُر کریں۔ آپ تنہا نہیں ہیں۔
🌈 محفوظ رہیں اور اپنی شناخت پر فخر کریں۔
پرائیڈ پاکستان
Leave a Reply