صنف کی قید سے آزاد: مغل دور میں ‘عشق’ اور صنف کی رنگینی

مغل دور میں ‘عشق’ اور صنف کی رنگینی

آج کل یہ غلط فہمی عام ہے کہ ہم جنس پرستی یا مختلف صنفی شناختیں “مغربی درآمد” ہیں۔ لیکن اگر ہم غیر ملکی قوانین کے آنے سے پہلے کی جنوبی ایشیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو حقیقت کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔ مغل دور میں شناخت کو کسی مخصوص لیبل میں قید نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ اسے روح کے اظہار کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔

شہنشاہ کا دل: بابر اور بابری

ہماری تاریخ میں ہم جنس پسندی کا ایک واضح ثبوت خود مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کی تحریروں میں ملتا ہے۔ اپنی سوانح عمری ’بابر نامہ‘ میں بابر نے کیمپ بازار کے ایک نوجوان ’بابری‘ کے لیے اپنی محبت کا اعتراف بڑی ایمانداری سے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس لڑکے کے لیے ان کی محبت ایسی تھی کہ وہ اسے آنکھ بھر کر دیکھ بھی نہیں پاتے تھے—یہ “عشق” کی وہ کیفیت ہے جسے اس وقت کوئی اسکینڈل نہیں بلکہ انسانی جذبات کا ایک فطری اظہار سمجھا جاتا تھا۔

خواجہ سرا: دربار کی شان

جنہیں آج ہم “تیسری صنف” کہتے ہیں، وہ مغل انتظامیہ کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔ خواجہ سرا کوئی پسماندہ طبقہ نہیں تھے، بلکہ وہ شاہی دربار کے معتمد خاص، مشیر اور محافظ تھے۔ وہ جاگیروں کے مالک تھے اور فوجوں کی قیادت بھی کرتے تھے۔ ان کا بلند مرتبہ اس بات کی گواہی تھا کہ اس دور کا معاشرہ یہ مانتا تھا کہ دانائی اور اختیار صرف مرد یا عورت تک محدود نہیں ہے۔

صوفیانہ عشق: جہاں صنف کی دیواریں گر جاتی ہیں

ہماری تاریخ صوفی روایات کے بغیر نامکمل ہے۔ لاہور کے مشہور صوفی بزرگ شاہ حسین اور ہندو لڑکے مادھو لال کی محبت کی داستان جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ آج بھی وہ لاہور میں ’مادھو لال حسین‘ کے مزار پر ایک ساتھ دفن ہیں۔ صوفی شاعری میں عاشق اکثر خود کو “زنانی” روپ میں پیش کرتا ہے تاکہ وہ اپنے محبوب (خدا) سے مخاطب ہو سکے۔ یہاں عشقِ مجازی کو عشقِ حقیقی تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *