پاکستان میں ہم جنس پرستوں کی تحریک

نوٹ: یہ تحریر بی بی سی اردو سے لی گئی ہے۔ مکمل اور اصل مضمون پڑھنے کے لیے بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر جائیں

پاکستان میں ہم جنس پرست زیر زمین منظم ہو رہے ہیں اور ان کے باقاعدگی سے اجتماعات بھی منعقد ہوتے ہیں۔ ہم جنس پرستوں کے بیرون ملک تنظیموں سے بھی روابط ہیں جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں ہم جنس پرستوں کی تحریک خاموشی سے مگر منظم طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے۔

پڑوسی ملک بھارت میں ہم جنس پرستوں کے تعلقات کو قانونی حیثیت ملنے کے بعد پاکستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کے باوجود ہم جنس پرستوں کو بھی حوصلہ ملا ہے۔

اس کی مثال گزشتہ دنوں کراچی میں ہم جنس پرستوں کی مصروف ترین شاہراہ فیصل پر پریڈ تھی۔ ہم جنس پرستی کی نشانی والی آٹھ رنگوں کی ٹی شرٹس پہنے ہوئے ان نوجوانوں کی عام لوگ تو شناخت نہیں کرسکے مگر وہ لوگ جو انھیں سمجھتے ہیں یا ان کے قریب رہتے ہیں، انھیں دیکھ کر فتح کا نشان بناتے رہے۔

ہم جنس پرست، کراچی

ہم جنس پرستوں نے سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس پر اپنے گروپس بنائے ہیں جن کے کئی سو ممبران ہیں

پریڈ میں شریک نوجوان ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت نے تردید کی تھی کہ ملک میں ہم جنس پرست نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اس پریڈ کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ حکومت کو بتایا جائے ہم موجود ہیں اور ہمیں تسلیم کیا جائے۔

ان کے ساتھی تحسین کا کہنا تھا ’اس پریڈ سے پہلے بہت بحث مباحثہ ہوا، کافی ڈر اور خوف بھی تھا کیونکہ پاکستان کے موجودہ حالات میں ہر انسان ڈر کر زندگی گذار رہا ہے۔ ان حالات میں ہم اتنے بڑے حق کے لیے بات کرنا چاہ رہے تھے۔ بعد میں ہم نے یہ سوچا کہ ہر چیز کی ابتدا کہیں نہ کہیں سے ہوتی ہے کسی کوتو پہلا قدم اٹھانا پڑے گا۔ یہ سوچ کر ہمارا ڈر اور خوف جاتا رہا۔‘

نوجوان ہم جنس پرست اپنے خیالات ، احساسات اور رجحانات کے بارے میں اپنے خاندان والوں کو آگاہ کرنے سےگریز کرتے ہیں اور ایک ڈھکی چھپی اور ادھوری زندگی گذارتے ہیں۔

پریڈ میں شریک نوجوان ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت نے تردید کی تھی کہ ملک میں ہم جنس پرست نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اس پریڈ کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ حکومت کو بتایا جائے ہم موجود ہیں اور ہمیں تسلیم کیا جائے۔

سولہ سالہ مانی طالب علم ہیں اور ان کا کہنا ہے ’ہم جنس پرستی کے بارے میں بچپن ہی سے معلوم ہو جاتا ہے مگر گھر والوں کو بتانا نہایت مشکل ہوتا ہے کیونکہ ہمارے جذبات، احساسات اور رجحان کو سمجھنے کے لیے انہیں شعور نہیں ہے۔ اگر بتا دیا جائے تو گھر والے ہم پر پابندیاں لگا دیتے ہیں اور ہمیں تیسری جنس سمجھنے لگتے ہیں۔‘

انٹرنیٹ جہاں کئی انقلاب لایا وہاں ہم جنس پرستوں کی زندگی میں خوشی کی نوید بن کر آیا اور ان کی یکجہتی میں اضافہ ہوا۔ پاکستان کے ہم جنس پرستوں نے بھی سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس پر اپنے گروپس بنائے ہیں جن کے کئی سو ممبران ہیں۔

مانی کا کہنا ہے کہ نئی نسل انٹرنیٹ سے باخبر ہے اور اسی کے ذریعے رابطہ ہوجاتا ہے۔ ’انٹر نیٹ پر کئی راستے موجود ہیں جہاں آسانی سے ایک دوسرے سے رابطہ کرسکتے ہیں۔‘ ان کے ایک اور ساتھی ڈیوڈ کے مطابق درمیانے درجے کے خاندان یا مڈل کلاس کے علاوہ بڑے گھرانوں کے کئی لوگ بھی ان کےگروپس میں موجود ہیں۔

یہاں اپنی سوچ کو دوسروں پر مسلط کیا جاتا ہے۔ جو آپ نہیں ہیں وہ کیسے بن کر رہ سکتے ہیں۔ اگر آپ لڑکیوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تو پھر لڑکی سے کیسے شادی کرسکتے ہیں۔ ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں ہم جنس پرستوں کو خاندانی اور سماجی دباؤ کے تحت لڑکیوں سے شادی کرنی پڑی مگر بعد میں ان لڑکیوں کی زندگی برباد ہوئی۔ اس لیے کہ وہ ان لڑکیوں کو چھوتے تک نہیں ہیں۔

تحسین

تحسین انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے ’یہاں اپنی سوچ کو دوسروں پر مسلط کیا جاتا ہے۔ جو آپ نہیں ہیں وہ کیسے بن سکتے ہیں۔ اگر آپ لڑکیوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تو پھر لڑکی سے کیسے شادی کرسکتے ہیں۔ ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں ہم جنس پرستوں کو خاندانی اور سماجی دباؤ کے تحت لڑکیوں سے شادی کرنی پڑی مگر بعد میں ان لڑکیوں کی زندگی برباد ہوئی۔ اس لیے کہ وہ ان لڑکیوں کو چھوتے تک نہیں ہیں۔‘

پاکستان میں مذہبی شدت پسندی میں اضافے کے بعد کراچی میں بھی طالبانائزیشن کی بات ہو رہی ہے مگر ڈیوڈ کہتے ہیں کہ وہ خوفزدہ نہیں ہوتے۔’یہ ہمارا بھی ملک ہے۔ ملائشیا اور انڈونیشیا مسلم ممالک ہیں مگر وہاں سماج نے ہم جنس پرستوں کو تسلیم کیا ہے۔‘ تحسین نے ان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حقوق نہیں چاہیئں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ یہاں حقوق نہیں مل سکتے۔ ’مگر کم سے کم لوگوں میں شعور ہو کہ ہم غلط نہیں ہیں کیونکہ یہ چیز دنیا میں موجود ہے۔ ہم ملائشیا اور انڈونیشیا جاچکے ہیں۔ ایسے کئی اور مسلم ممالک ہیں جہاں ہم جنس پرستوں کو حقوق نہیں دیے گئے مگر انہیں تنگ بھی نہیں کیا جاتا۔‘

کراچی میں ہم جنس پرستوں کے مخصوص مقامات ہیں جہاں ان کی ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ شہر سے باہر ساحل سمندر اور فارم ہاؤس ان کی بڑی پارٹیوں کا مرکز ہیں جس کے لیے سنیچر کی شام مختص ہوتی ہے۔ تحسین کے مطابق ہم جنس پرست منظم ہیں اور ان کی پارٹیاں مقامی اور ملکی سطح کی ہوتی ہیں جن میں کئی سو لوگ شریک ہوتے ہیں۔

’اس سے پہلے چھاپے نہیں پڑتے تھے مگر اب پولیس جان بوجھ کر آتی ہے اور پارٹی بند کردیتی ہے۔ آرگنائزرز سے پیسے چھین لیے جاتے ہیں اور کھانا اٹھا کر چلے جاتے ہیں۔ اس پارٹی میں کوئی بھی غیر قانونی چیز نہیں ہوتی۔ اس میں نشہ آور اشیاء کا استعمال بھی نہیں کیا جاتا صرف ملنے ملانے کی پارٹی اور ڈانس ہوتا ہے۔‘

پاکستان کے ہم جنس پرستوں کا انٹرنیشنل لسبیئن اینڈ گے ایسوسی ایشن سمیت برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا کی ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے رابطہ ہے۔ تحسین کے مطابق ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ تحفظ یا حقوق وہ اپنے ملک میں تو دلا سکتے ہیں مگر پاکستان میں کچھ نہیں کرسکتے، یہاں انہیں خود ہی کچھ کرنا ہوگا۔

ہم جنس پرستی پاکستان کے قوانین اور مذہبی حوالے سے ناقابل قبول ہے اور ملکی قانون کے مطابق ہم جنس پرستی کی سزاء دس سال قید یا کوڑے ہیں۔

ہم جنس پرست

پاکستان کے قوانین کے مطابق ہم جنس پرستی کی سزا دس سال قید یا کوڑے ہے

پاکستان میں کچھ واقعات ایسےبھی ہوئے ہیں جن میں کچھ لوگوں نے خود کو ہم جنس پرست قرار دے کر بیرون ملک سیاسی پناہ حاصل کی۔ مگر مانی کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں اور بھی کئی طریقے ہیں جن سے سیاسی پناہ مل سکتی ہے۔’ اگر کوئی راستہ نظر آتا ہے تو وہاں سے صحیح اور غلط دونوں لوگ گذرتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو حقیقی ہم جنس پرست ہیں وہ ایسا کرتے ہیں۔‘

پاکستان میں ہم جنس پرستی نہ تو لوگوں اور نہ ہی میڈیا میں کبھی موضوعِ بحث رہی ہے۔ انگریزی اخبارات میں بیرون ملک ہم جنس پرستوں کی کہانیاں اور تبصرے پڑھنے کوتو ملتے ہیں مگر پاکستان کے ہم جنس پرستوں کے بارے میں بہت کم لکھا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعلامیے میں تمام اداروں اور رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ ہم جنس پرستی یا جنسی ترجیحات کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک اور تشدد کے خلاف بھی اسی انداز میں کارروائی کو یقینی بنایا جائے جیسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کی جاتی ہے۔

یہ مضمون بی بی سی اردو سے شکریہ کے ساتھ دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔ اصل تحریر بی بی

سی اردو کی ویب سائٹ پر اس لنک کے ذریعے پڑھی جا سکتی ہے:

‭BBC Urdu‬ – ‮پاکستان‬ – ‮پاکستان میں ہم جنس پرستوں کی تحریک‬

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *